ابنا: مصر کے الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ ابھی صدارتی امیدواروں کی شکایات کے جائزے کا عمل پورا نہیں ہوا ہے اسلئے صدارتی انتخابات کے سرکاری نتائج کا اعلان جو آج کیا جانا تھا ملتوی کردیا گیا ۔ مصر کے الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ امیدواروں نے چار سو شکایات درج کرائی ہیں جن کا جائزہ لینے کیلئے مزید وقت درکار ہے ۔ اس سلسلے میں مصر کے صدارتی انتخابات کی اعلی کمیٹی کے چیئرمین حاتم بجاتو نے کہا ہے کہ حتمی نتائج کا اعلان آئندہ ہفتے یا اتوار کے روز کیا جائیگا ۔ مصر کے صدارتی انتخابات کے نتائج کے اعلان میں تاخیر کا اعلان ایسی حالت میں کیا گیا ہے کہ صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے دونوں امیدواروں محمد مرسی اور احمد شفیق نے اپنی اپنی کامیابیوں کے دعوے کئے ہیں ۔ نتائج کے اعلان میں تاخیر پر اخوان المسلمین اور ہزاروں مصریوں نے اعتراض کیا ہے اور اخوان المسلمین نے جس نے مصر کے صدارتی انتخابات میں محمد مرسی کو اپنا امیدوار بنایا تھا صدارتی انتخابات کے نتائج کے اعلان میں تاخیر کو دھاندلی کرنے کیلئے ایک سازش قرار دیا ہے اور نتائج کا فوری طور پر اعلان کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ نتائج کے اعلان میں تاخیر پر ہزاروں مصریوں نے بھی احتجاج کرتے اور التحریر اسکوائر پر دھرنا دیتے ہوئے مصر کی فوجی کونسل کے خلاف نعرے لگائے اور الزام لگایا کہ یہ کونسل مصر کے آئندہ ڈھانچے میں اپنے اختیارات بڑھانے کی کوشش کررہی ہے ۔ ان احتجاجیوں نے مصر کی اعلی فوجی کونسل سے اقتدار منتخب حکومت کو سونپنے کا مطالبہ بھی کیا ۔
مصری عوام نے اس سے قبل بھی اختیارات بڑھانے اور بنیادی آئین میں ترمیم کی کوشش کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے فوجی کونسل کے خلاف مظاہرہ کیا تھا مگر اب صدارتی انتخابات کے نتائج کے اعلان میں تاخیر پر عوام میں غصہ بھڑک اٹھا ہے جس کی بناء پر احتجاج کرنے والوں کی تعداد میں بدستور اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ اخوان المسلمین سمیت مصر کے مختلف انقلابی گروہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ دھرنے میں شامل ہوں ۔ اہم مسئلہ یہ ہے کہ مصر کے صدارتی انتخابات کی اعلی کمیٹی، نتائج کے اعلان میں تین روز سے زیادہ تاخیر نہیں کرسکتی ۔ اس سلسلے میں عدلیہ کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ الیکشن قانون کی انتالیسویں شق کی بنیاد پر الیکشن کمیشن پر تین روز کے اندر نتائج کا اعلان کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اس رو سے نتائج کے اعلان میں تاخیر قانون کے خلاف شمار ہوگی اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مصر کی حکمراں فوجی کونسل اس بات کی کوشش کررہی ہے کہ نتائج، مصر کے سابق ڈیکٹیٹر حسنی مبارک دور کے وزیر اعظم احمد شفیق کے حق میں تبدیل کرکے سرکاری طور پراعلان کیا جائے ۔ مصر کی حالیہ تبدیلیوں منجملہ پارلیمنٹ کی تحلیل ۔ سیاسی سرگرمیوں سے محروم کئے جانے کے قانون کو کالعدم قرار دینے اور اسی طرح صدارتی انتخابات کے نتائج کے اعلان میں تاخیر جیسے اقدامات سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ مصر کی حکمراں اعلی فوجی کونسل اس ملک کے سیاسی نظام کے مستقبل کیلئے ایک اہم رکاوٹ شمار ہوتی ہے ۔
........
/169